عنوان: حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی – عدل، بہادری اور اسلام کی خدمت کی روشن مثال حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم صحابہ میں سے ایک ہیں۔ آپ کو تاریخ اسلام میں عدل و انصاف، بہادری اور حق گوئی کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ آپ کا لقب فاروق ہے، جس کا مطلب ہے حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔ حضرت عمرؓ کی زندگی مسلمانوں کے لیے ایک بہترین مثال ہے، جس سے ہمیں دیانت داری، انصاف اور اللہ کے راستے میں قربانی دینے کا سبق ملتا ہے۔ ابتدائی زندگی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی پیدائش تقریباً 584 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عدی سے تھا۔ آپ کے والد کا نام خطاب بن نفیل اور والدہ کا نام حنتمہ تھا۔ حضرت عمرؓ بچپن سے ہی مضبوط شخصیت کے مالک تھے۔ عرب معاشرے میں آپ کی بہادری، ذہانت اور مضبوط فیصلوں کی وجہ سے آپ کو خاص مقام حاصل تھا۔ اسلام سے پہلے حضرت عمرؓ اسلام کے سخت مخالف تھے۔ وہ مسلمانوں کو تکلیف دیتے تھے اور اسلام کو ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ہدایت ڈال دی اور وہ اسلام قبول کر کے اسلام کے سب سے بڑے محافظ بن گئے۔ اسلام قبول ...
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسانوں پر کروڑوں احسانات فرمائے ہیں ان احسانات میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس رب تعالی نے نبی کریمﷺ کو اس امت کے لئے مبعوث فرمایا آپﷺ نے اپنی زندگی کے لیل و نہار کو اللہ کے پیغامات پہنچانے کے لئے وقف کردیا آپﷺ لوگوں کو قرآن مجید پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے تھے اس سے زنگ آلود دلوں میں تازگی آتی اور روح کی غذا کا بندوبست ہوتا ہے آپﷺ نے نہ صرف ان کو قرآن سنایا بلکہ قرآن سے لوگوں کی تربیت بھی فرمائی اور ان کا تزکیہ فرمایا آپﷺ کی سیرت لکھنے کی کوشش کرتاہوں۔