Skip to main content

Posts

Showing posts with the label سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ

 حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ  ۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ     "انصار میں سے تین اشخاص ایسے ہیں کہ فضل و شرف میں کوئی ان سے بڑھ کر نہیں، سعد بن معاذ، اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی عنہم۔"                   {فرمان عائشہ رضی اللہ عنہا} تاریخی دعوت محمدیہﷺ میں حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کا نام سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے- اگر آپ اس عبادت گزاروں میں تلاش کریں تو متقی، پرہیزگار، شب زندہ دار اور رات بھی قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں میں ملیں گے- اگر آپ اس جوانمردوں میں تلاش کریں گے تو اسے بہادر، نڈر، جرات مند اور اللہ کا نام بلند کرنے کے لیے معرکوں میں بے خطر کود جانے والا دیکھیں گے- آپ اسے حکمرانوں میں تلاش کریں گے تو اسے طاقتور، امانت دار اور مسلمانوں کے مال کے محافظ پائیں گے-  بے شمار خوبیوں کی بناء پر ام امومنین نے اس کے اور اس کی قوم کے دیگر دو اشخاص کے متعلق ارشاد فرمایا- انصار میں تین اشخاص ای...

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

                               ﷽ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 🔴ظہور  قدسی🔴        چمنستان دہر میں بارہا روح پرور بہاریں آچکی ہیں۔ چرخ نادرهٔ کار نے بھی کبھی بزم عالم اس سر و سامان سے سجائی کینگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئی ہیں۔       لیکن آج کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیر کہن سال دہر نے کروڑوں برس صرف کردیے ۔ سیارگان فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے، چرخ کہن مدت ہائے دراز سے اسی صبح جان نواز کے لئے لیل ونہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کارکنان قضا و قدر کی بزم آرائیاں، عناصر کی جدت طرازیاں ، ماه و خورشید کی فروغ انگیزیاں، ابر و بادکی تردستیاں، عالم قدس کے انفاس پاک توحید ابراہیم ، جمال یوسف معجز طرازی موسی ، جان نواز مسیح سب اس لئے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں اورشہنشاہ کونین ان کے دربار میں کام آئیں گے۔       آج کی صبح وہی جان نواز، وہی ساعت ہمایوں، وہی دور فرخ فال ہے، ارباب سیر اپنے محدود پیرایۂ بیان میں لکھتے ہیں کہ آج کی رات ایوان...

سیرت النبی ﷺ

                       سیرت النبی ﷺ                                        🔴قصی🔴       نضر کے بعد فہر اور فہر کے بعد قصی بن کلاب نے نہایت عزت اور اقتدار حاصل کیا، اس زمانہ میں حرم کے متولی خلیل خزاعی تھے قصی نے خلیل کی صاحبزادی سے جن کا نام *حبی* تھا شادی کی تھی ، اس تعلق خلیل نے مرتے وقت وصیت کی کہ حرم کی خدمت قصی کو سپرد کی جائے ، اس طرح یہ منصب بھی ان کو حاصل ہو گیا، قصی نے ایک دار المشورہ قائم کیا جس کا نام دارالندوہ رکھا، قریش جب کوئی جلسہ یا جنگ کی تیاری کرتے تو اسی عمارت میں کرتے ، قافلے باہر جاتے تو یہیں سے تیار ہو کر جاتے، نکاح اور دیگر تقریبات کے مراسم بھی یہیں ادا ہوتے۔      قصی نے بڑے بڑے نمایاں کام کئے ، جو ایک مدت تک یادگار ہے، مثلا *سقایہ* اور *رفاده* جو خدام حرم کا سب سے بڑا منصب تھا ، انہی نے قائم کیا، تمام قریش کو جمع کرکے تقریر کی کہ سینکڑوں ہزاروں کوس سے لوگ ح...