Skip to main content

Posts

Showing posts with the label حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے سیاسی حالات

سیدہ ہند بنت عمرو رضی اللہ عنہا

 سیدہ ہند بنت عمرو رضی اللہ عنہا  بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه  سیدہ ہند بنت عمرو رضی اللہ عنہا 🔸خاندانی پس منظر :-    نام ہند ، والد کا نام عمرو بن حرام ، بھائی کا نام عبد اللہ بن عمرو بن حرام ، انھوں نے جنگ احد میں شہادت پائی۔  سیدہ ہند رضی اللہ عنہا حدیث کے مشہور و معروف راوی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہھوپھی تھیں ۔ سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کا خاوند عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں یثرب کا سردار تھا اور اس کا شمار انصارِ مدینہ کے معززین میں ہوتا تھا ۔ 🔸سیدہ ہند اور ان کے خاوند کا اسلام قبول کرنا :-    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمير رضی اللہ عنہ کو دینی احکام کی تعلیم دینے کے لیے مدینہ منورہ بھیجا تھا ۔ ان کی دعوت سے اسلام پھیلا ۔ انھوں نے اہلِ مدینہ کو قرآن پڑھ کر سنایا ۔ اہلِ مدینہ قرآن سن کر جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بھی متاثر ہو کر مسلمان ہو گئیں ۔     سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کے خاوند ...

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے سیاسی حالات

                        سیرت  النبیﷺ           پچھلی  قسط میں عربوں کے معاشی اور معاشرتی حالات بیان کیے گئے. اس قسط میں مختصرا" اس دور کے سیاسی حالات بیان کیے جارھے ھیں.. ظہور اسلام سے پہلے عرب قبائلی نظام میں تقسیم تھے اور سرزمین عرب کے ریگستانوں میں دانہ ھاۓ تسبیح کی طرح بکھرے ھوۓ تھے. قبائل کا سیاسی نظام نیم جمہوری تھا. قبیلہ کا ایک سردار مقرر ھوتا جس کی شجاعت , قابلیت اور فہم و فراست کے علاوہ سابقہ سردار سے قرابت داری کا بھی لحاظ رکھا جاتا. تمام لوگ اپنے سردار کی اطاعت کرتے تاھم سردار قبیلہ کے بااثر لوگوں سے صلاح مشورہ بھی کرلیتا. عرب قوم کیونکہ اکھڑ مزاج قوم تھی تو بعض اوقات کسی معمولی سی بات پر اگر دو مختلف قبیلے کے افراد میں جھگڑا ھوجاتا تو اسے پورے قبیلے کی انا کا مسلہ بنا لیا جاتا اور پھر مخالف قبیلے کے خلاف اعلان جنگ کردیا جاتا. بسا اوقات یہ جنگیں مدتوں جاری رھتیں. مثلا" بنو تغلب اور بنو بکر میں بسوس نامی ایک اونٹنی کو مار ڈالنے پر جنگ کا آغاز ھوا اور یہ جنگ پھر چ...