سیدہ أمّ رومان رضی اللہ عنہا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه سیدہ أمّ رومان رضی اللہ عنہا ✨خاندانی پس منظر :- ان کا نام زینب تھا ، بعض کہتے ہیں کہ ان کا نام وعد تھا ۔ لیکن ام رومان کا لقب نام پر غالب آگیا اور وہ اپنے اسی لقب سے مشہور و معروف ہوئیں ۔ والد کا نام عامر بن عویمر تھا ۔ زمانہ جاہلیت میں ام رومان کی شادی حارث بن سنجرہ ازدی کے ساتھ ہوئی جن کا اپنی قوم میں بڑا بلند مقام و مرتبہ تھا ۔ ام رومان نے ایک بیٹے کو جنم دیا جس کا نام طفل بن حارث رکھا گیا ۔ یہ خاندان جزیرة العرب کے سداة نامی مقام پر قیام پذیر تھا ۔ پھر حارث اپنے اہل خانہ کو لیکر روانہ ہوا اور مکّہ معظمہ میں رہائش اختیار کر لی ۔ اس دور میں یہ قانون تھا جو بھی باہر سے آکر مکّہ معظمہ میں قیام پذیر ہونا چاہتا ہے ، اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ مقام زعماء میں سے کسی کو اپنا حلیف بنا لے ، تاکہ اسے اس کی کفالت میسر آسکے اور وہاں آسانی سے گزر بسر ہوسکے ۔ حارث نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عن...
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسانوں پر کروڑوں احسانات فرمائے ہیں ان احسانات میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس رب تعالی نے نبی کریمﷺ کو اس امت کے لئے مبعوث فرمایا آپﷺ نے اپنی زندگی کے لیل و نہار کو اللہ کے پیغامات پہنچانے کے لئے وقف کردیا آپﷺ لوگوں کو قرآن مجید پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے تھے اس سے زنگ آلود دلوں میں تازگی آتی اور روح کی غذا کا بندوبست ہوتا ہے آپﷺ نے نہ صرف ان کو قرآن سنایا بلکہ قرآن سے لوگوں کی تربیت بھی فرمائی اور ان کا تزکیہ فرمایا آپﷺ کی سیرت لکھنے کی کوشش کرتاہوں۔