Skip to main content

عبدالمطلب کی وجہ تسمیہ


                              
                               ﷽ 


                   🔴عبدالمطلب کی وجہ تسمیہ🔴

     ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی۔ اس کے بطن

سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام *شیبہ* رکھا گیا ۔ یہ لڑکا ابھی بچہ ہی تھا کہ ہاشم کا انتقال ہو گیا اور ان کا بھائی *مطلب* مکہ کا حکمران ہوا۔ *ہاشم* کا بیٹا *شیبہ* مدینہ میں پرورش پاتا رہا۔ جب *مطلب* کو معلوم ہوا کہ *ہاشم* کا بیٹا جوان ہو گیا ہے تو وہ اپنے بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گیا۔ جب *مطلب* اپنے بھتیجے *شیبہ* کو لے کر مکہ میں داخل ہوا تو یہاں کے لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ یہ  نوجوان مطلب کا غلام ہے۔ مطلب کو جب اس غلط فہمی کا حال معلوم ہوا تو اس نے لوگوں سے کہا کہ یہ میرا بھتیجا اور ہاشم کا بیٹا ہے مگر لوگ اس کو عبد المطلب ہی کے نام سے پکارتے رہے۔ آخر *شیبہ بن ہاشم* کا نام عبد المطلب ہی مشہور ہوگیا۔ عبد المطلب کے اخلاق عزت وشہرت سب اپنے باپ ہاشم کا نمونہ تھے۔ امیہ کے بیٹے حرب کو عبدالمطلب کا اثر و اقتدار گراں گزرا اور اس نے بھی اپنے باپ کی طرح عبد المطلب کو مقابلہ کے لیے دعوت دی ۔ دستور کے موافق اس مرتبہ بھی منصف مقرر ہوا اور اس نے فیصلہ عبد المطلب ہی کے حق میں دیا۔ اس فیصلہ نے *بنی امیہ* اور *بنی ہاشم* کے درمیان عداوت کو اور بھی بڑھا دیا ۔ عبدالمطلب کے زمانہ میں *حبش* کی فوج نے اپنے ایک سردار *ابرہہ* کے زیر کمان چڑھائی کی ۔ یہی فوج *اصحاب فیل* کے نام سے موهوم ہوئی ہے جو قدرتی اور آسمانی عذاب سے ہلاک و برباد ہوئی ہے۔ قریشی قبائل کے بھی تعلقات کا حال اس شجرہ سے سمجھ میں آئے گا۔


                       🔴عبد مناف کا خاندان🔴


         عبد مناف تمام *ملک عرب* میں سب سے زیادہ شریف و کریم تسلیم کئے جاتے تھے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے بھی شرفائے عرب میں سب پر فوقیت رکھتے تھے ۔ عبد مناف کا اصل نام *مغیرہ* تھا۔ ان کو *قمر* اور *سید* بھی کہتے تھے ۔ چونکہ ان کے بھائیوں کے نام *عبدالدار* اور *عبد العزی* تھے اس لیے ان کو *عبد منات* کے نام سے پکارنے لگے پھر *عبدالمناۃ* سے ان کا نام *عبد مناف* مشہور ہوگیا۔ 

           ≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠

                          ❶تاریخ اسلام جلد 
      

                                 🌹  ͜͡ ۝͜͡  🌹


Comments

Popular posts from this blog

سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا

سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا 💕خاندانی پس منظر اور اسلام۔۔ ان کا نام حواء تھا ، والد کا نام یزید بن سکن اور والدہ کا نام عقرب بنت معاذ تھا ان کے ماموں قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ البتہ ان کا خاوند قیس بن خطیم زمانہ جاہلیت کے ان گمراہ نوعیت شاعروں میں سے ایک تھا جن کے بارے قرآن کریم میں یہ ارشاد ہے : (سورہ الشعراء   🌷وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕ  شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں ۔ 🌷اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙ  کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں ۔ قیس نے اپنی عمر کو فضول کاموں میں گزارا ۔ اس نے اپنی زندگی کھیل کود اور دیوانگی میں گزاری اس نے ہمیشہ گمراہی کو ہدایت پر تر جیح دی اور بے راہ روی کو رشد و ہدایت سے بہتر جانا اور وہ پر...

قریش کی مخالفت اور اس کے اسباب

                                                                        سیرت النبی ﷺ                                                                         ﷽                                                    🔴قریش کی مخالفت اور اس کے اسباب🔴     مکہ کی جو عزت تھی کعبہ کی وجہ سے تھی ۔ قریش کا خاندان جو تمام عرب پر مذہی حکومت رکھتا تھا اور جس کی وجہ سے وہ ہمسائیگان خدا بلکہ آل اللہ یعنی خاندان الہی کہلاتے تھے۔ اس کی صرف یہ وجہ تھی کہ وہ کعبہ کے مجاور او...

حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ

 حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ  بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه  *صحابہ کرام رضی اللہ عنہم* حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ *اے ابو یحیی ! سودا نفع بخش رہا* *(فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم)* ہم میں سے کون ہے جو حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کو نہ جانتا ہو ! اور ان کی سیرت کے اہم ترین واقعات جاننے میں دلچسپی نہ رکهتا ہو، لیکن ہم میں سے اکثر و بیشتر یہ بات نہیں جانتے کہ آپ رومی نہیں تهے بلکہ خالص عربی النسل تهے، باپ کی جانب سے نمیری اور ماں کی جانب سے تمیمی تهے. یعنی ان کے والد قبیلہ بنو نمیر اور والدہ قبیلہ بنو تمیم سے تهی، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کا روم کی طرف انتساب ایک عجیب و غریب واقعہ ہے جو کہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہے گا اور تاریخ دان اسے نہایت دلچسپی سے بیان کرتے رہیں گے. بعثت نبوی سے دو سال پہلے کی بات ہے بصرہ سے ملحقہ قدیمی شہر ابلہ کا گورنر سنان بن مالک نمیری تها. اس کی تقرری شاہ ایران کے ایما پر کی گئی تهی، اسے اپنی اولاد میں سب سے زیادہ پیار اپنے پانچ سالہ بچے صہیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تها...