Skip to main content

کرونا وائرس اور شرعی نقطۂ نظر


دنیا میں کورونہ وائرس کے  اپڈیٹ کو منیٹ ٹو منیٹ 
دیکھنے کے لئے اس لینک پر دیکھا جا سکتا ہے
                   
               کرونا وائرس اور شرعی نقطۂ نظر

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں ایک اہم نعمت صحت وتندرستی ہے؛ البتہ دنیا وآخرت کی نعمتوں میں بنیادی فرق فنا وبقاء کا ہے، آخرت میں جن لوگوں کو جنت میں جگہ ملے گی، اور بے شمار نعمتیں ان کے لئے مہیا کی جائیں گی، وہ ہمیشہ ہمیش باقی رہیں گی، دنیا کی نعمتیں فانی اور ناپائیدار ہیں، یا تو نعمت سے فائدہ اُٹھانے والا موجود رہتا ہے اور نعمت اس سے چھین لی جاتی ہے، یا نعمت باقی رہتی ہے اور انسان خود اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، صحت بھی ایسی ہی نعمتوں میں ہے، کوئی مخلوق نہیں جو بیماری سے دوچار نہ ہو، انسان وجاندار ہی نہیں ، بے جان چیزوں میں بھی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیںویہ بیماریاں بنیادی طور پر دوطرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ ہے جن میں پھیلاؤ نہیں ہوتا، دوسری : وہ جن میں پھیلاؤ ہوتا ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجذوم کے بارے میں فرمایا: اس سے اس طرح بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو: فرّ من المجذوم کما تفر من الأسد (بخاری، حدیث نمبر: ۱۷۵۷) 
 یقیناََ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی: لا عدویٰ ولا طیرۃ (بخاری، کتاب الطب باب لا عدوی، حدیث نمبر: ۷۵۵۷) لیکن اس ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ بیماری از خود ایک مریض سے دوسرے مریض کو نہیں لگتی، جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں سمجھا جاتا تھا؛ بلکہ بیماری کا پھیلاؤ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے، جب اللہ چاہتے ہیں تو بیماری کے جراثیم متعدی ہوتے ہیں، اور جب اللہ نہیں چاہتے، تو بیماری کا پھیلاؤ نہیں ہوتا، یہ بات مشاہدہ میں بھی آتی ہے کہ بعض دفعہ ایک متعدی بیماری میں مبتلاء شخص سے کسی نے چند لمحات ملاقات کی تو وہ اس بیماری کا شکار ہو جاتا ہے، اور جو شخص مستقل تیمارداری کر رہا ہے، یا جو معالج اس کا علاج کر رہا ہے، وہ اس بیماری میں مبتلاء نہیں ہوتا؛ اسی لئے مرض کا پھیلاؤ ظاہری سبب کے درجہ میں ہے، مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
 البتہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں فائدہ حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے لئے اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے؛ اس لئے علاج وپرہیز دونوں کی بڑی اہمیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بیماری ایسی نہیں، جس کی دوا اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کی ہو (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۳۹۷۴)یہ اور بات ہے کہ بعض بیماریوں کے علاج کے لئے کائنات میں اللہ نے جو دوا پیدا فرمائی ہے، انسانی تحقیق کی ابھی وہاں تک رسائی نہ ہوئی ہو، اسی اعتبار سے بعض بیماریوں کو لاعلاج کہا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا علاج کرایا ہے، بعض صحابہؓ کے علاج کے لئے معالجین کو بلایا ہے، غزوۂ خندق کے بعض زخمی مجاہدین کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا، اور اپنی نگرانی میں اس زمانہ میں موجود وسائل کے اعتبار سے ان کا علاج کرایا ہے؛ اس لئے علاج پر توجہ دینا بھی ایک دینی عمل ہے، جو فقہاء کی تصریحات کے مطابق بعض اوقات واجب اور بعض مرتبہ مستحب ہوتا ہے، یہ بیماری کے سلسلہ میں اسلام کا بنیادی تصور ہے، عیسائی دنیا میں جب کلیسا کا اقتدار قائم تھا تو ان کے علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اگر ہیضہ یا پلیگ پھیل جائے تو اس کا علاج کرانا درست نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے منشاء میں خلل پیدا کرنا اور اللہ کی مرضی کے خلاف عمل کرنا ہے، ان کا تصور تھا کہ بیماری ہمیشہ گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے؛ اس لئے بیمار کسی ہمدردی کا مستحق نہیں ہے، یہ گویا اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں خلل پیدا کرنا ہے، مگر اسلام کا تصور یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کبھی بیماری اللہ کے عذاب کے طور پر ہو؛ لیکن ہمیشہ ایسا ہی ہو، یہ ضروری نہیں، اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بیمار نہیں ہوتے؛ مگر خود قرآن مجید نے اللہ کے پیغمبر حضرت ایوب علیہ السلام کی پُر مشقت بیماری کا ذکر فرمایا ہے، اگر کوئی شخص گناہگار بھی ہو تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے؛مگر وہ انسان ہمدردی کا مستحق ہے، کفر سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم حضرات کے ساتھ جس حسن سلوک کا معاملہ فرمایا، حدیث وفقہ کی کتابیں ان کے ذکر سے معمور ہیں۔
 لہٰذا اگر کوئی شخص بیمار ہو تو اسے اپنی استطاعت کے مطابق علاج کی فکر کرنی چاہئے، اور کوئی دوسرا شخص بیماری سے دو چار ہو تو اس کی مدد کرنی چاہئے، اس کا تعلق انسانیت کے ساتھ رحم سے ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زمین والوں پر رحم کرو تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا (سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۱۹۲۴) علاج ہی کا ایک حصہ پرہیز اور احتیاط ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر اس کا حکم دیا ہے، کتبِ احادیث میں طب وعلاج سے متعلق عنوان کے تحت اس مضمون کی روایتیں منقول ہیں۔
 اس وقت کورونا وائرس کی ستم انگیزی نے پوری دنیا کو
 ہلا کر رکھ دیا ہے، جن قوموں کو اپنی ٹکنالوجی پر غرور ہے اور انھوں نے اپنی عقل کو خدا سمجھ رکھا ہے، وہ بھی اس ناقابل دید چھوٹے سے وائرس کے مقابلہ اپنی عجزو درماندگی کا اعتراف کر رہے ہیں، اسلام نے بیماریوں کے متعلق عمومی طور پر جو ہدایات دی ہیں، وہ اس نوپید بیماری کے سلسلہ میں بھی ہماری رہنمائی کرتی ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہمیں مریضوں سے ہمدردی ہونی چاہئے، ان کے علاج میں معاون بننا چاہئے، اس خطرناک بیماری کا علاج دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے علاج کی ترغیب معلوم ہوتی ہے اور یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔
 علاج ہی کا ایک حصہ پرہیز ہے؛ اس لئے احتیاطی تدبیروں پر عمل کرنا چاہئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وبائی امراض میں خصوصی احتیاط کا حکم فرمایا ہے، جیسا کہ اوپر حدیث گزرچکی ہے کہ آپ نے جذام کے مریض کے قریب جانے سے بھی منع کیا ہے، یہاں تک کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی منقول ہے کہ جذام کے مریض کو مسلسل نہ دیکھا کرو اور جب اس سے گفتگو کرو تو تمہارے اور اس کے درمیان ایک نیزہ کا فاصلہ ہونا چاہئے: لا تدیموا النظر إلی المجذومین، وإذا کلمتموھم فلیلن بینکم وبینھم قید رمح (مجمع الزوائد:۵؍۱۰۴) بنو ثقیف کا ایک وفد حاضر ہوا،اس میں ایک صاحب جذام کے مریض تھے، اس وفد نے دست مبارک پر بیعت کی، آپ نے اس مجذوم شخص کو کہا کہ میں نے تم سے غائبانہ بیعت کر لی، تم اب واپس ہو جاؤ.......... إنا قد بایعناک فارجع (صحیح مسلم ، حدیث نمبر: ۲۲۳۱) اسی احتیاط کے پس منظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون( پلیگ) کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب کسی علاقہ میں اس بیماری کے پھوٹ پڑنے کی اطلاع ملے تو باہر سے وہاں نہ جاؤ، اور تم اس علاقہ میں موجود ہو تو بیماری سے بچنے کی نیت سے وہاں سے باہر نہ بھاگو: إذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تدخلوا علیہ، وإذا وقع وأنتم بأرض فلا تخرجوا منھا فراراََ منہ (بخاری، حدیث نمبر: ۵۷۲۸) باہر سے اس علاقہ میں جانے کو اس لئے منع فرمایا گیا کہ کہیں وہ اس بیماری میں مبتلا نہ جائے؛ اس لئے کہ سبب کے درجہ میں بعض امراض متعدی ہوتے ہیں، اور جو پہلے سے وہاں موجود ہیں، ان کو باہر نکلنے سے اس لئے منع فرمایا گیا کہ سارے صحت مند شہر چھوڑ دیں تو مریضوں کو طبی امداد کیسے ملے گی، اور وہ اگر اپنے ساتھ بیماری کے جراثیم لے کر دوسرے علاقوں میں جائیں گے تو وہاں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے، گویا انسان کو اپنے آپ کو بھی ایسے اسباب سے بچانا ضروری ہے اور دوسرے لوگوں کو اور سماج کو بھی بچانا ضروری ہے۔
 لہٰذا کورونا وائرس کے سلسلہ میں ماہرین جن باتوں سے روک رہے ہیں، اور جن احتیاطی تدابیر کی رہنمائی کر رہے ہیں، شرعی نقطۂ نظر سے ان پر عمل کرنا ضروری ہے، اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہو جائے تو سماج کی اور بالخصوص اس کے متعلقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریض کے علاج کی بھر پور کوشش کریں، اور خود مریض کا فریضہ ہے کہ وہ ایسی باتوں سے بچے، جس سے دوسرا شخص متأثر ہو سکتا ہو؛ البتہ احتیاط میں اس درجہ غلو نہیں ہونا چاہئے کہ اسلامی شعائر پر عمل متأثر ہو جائے، جیسے اس وقت متعدد مسلم ملکوں میں جمعہ اور پنج وقتیہ نماز سے منع کر دیا گیا ہے، اور مقدس مقامات میں بھی عبادتوں سے روک دیا گیا ہے؛ حالاں کہ ابھی پوری دنیا میں کل دو لاکھ کے قریب کیس سامنے آئے ہیں، جن میں وائرس کے پائے جانے کا صرف شبہ ہے، ان میں سے ۶۷؍ہزار سے زیادہ صحت یاب ہوچکے ہیں، اور پوری دنیا میں بحیثیت مجموعی اس وائرس کی وجہ سے جو اموات ہوئی ہیں، ان کی تعداد 77161 ہے، کیا اس کی وجہ سے مساجد کو معطل کر دینا درست عمل ہو سکتا ہے؟ ٹرینیں اور بسیں چل رہی ہیں، سرکاری دفاتر کام کر رہے ہیں، اندرون ملک ہوائی جہاز ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے ہیں، وطن عزیز کی حفاظت کے لئے سرحدوں پر فوجیوں کی بڑی تعداد جمع ہے اور یقیناََ اسے ہونا چاہئے؛ لیکن مساجد میں نمازوں کو منع کر دیا جائے، جس میں صرف چند منٹ کا وقت لگتا ہے، اور ہر نمازی پہلے وضوء کرتا ہے، جس میں ہاتھ کے بشمول تمام اعضاء وضوء کو اچھی طرح دھوتا ہے اور ماہرین کی اطلاع کے مطابق یہ دھونا اپنے آپ کو وائرس سے بچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، تو کیا یہ انصاف کی بات ہو سکتی ہے؟
 صحیح طریقۂ کار یہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں سے صابن کا استعمال کرتے ہوئے وضوء کرنے اور گھروں میں سنتیں ادا کر کے آنے کی اپیل کی جائے، نماز کا وقفہ مختصر رکھا جائے، جس شخص کو نزلہ اور زکام ہو، اس سے کہا جائے کہ وہ گھر پر نماز ادا کریں، مسجد نہ آئیں، مساجد میں صفائی ستھرائی کا مکمل انتظام کیا جائے، اور نمازیوں کو ماسک پہننے کا پابند بنایا جائے؛ مگر جماعت کو موقوف کر دینا یہ علاج نہیںہے، یہ تو بیماری ہے، روح کی بیماری اور ضعیف الاعتقادی کی بیماری، خاص کر ہندوستان جیسے ملک میں نماز کی جماعت کو موقوف کر دینا مستقبل میں بہت خراب نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
 افسوس کہ بعض مسلم ممالک نے مسجدوں میں جمعہ اور پنج وقتہ جماعتوں پر پابندی لگا دی، اسلام کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے کہ مسلمانوں نے اپنے اختیار سے ایسا کیا ہو، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میںطاعون کا واقعہ پیش آیا، اس نے اتنی خطرناک صورت اختیار کر لی کہ بعض مؤرخین کے بیان کے مطابق بعض مقامات پر تین چوتھائی لوگوں کی موت واقع ہوگئی، ظاہر ہے کہ یہ بیماری سے متأثر ہونے والوں کا بہت بڑا تناسب ہے، خود حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۸۳؍ لڑکے لقمۂ اجل بن گئے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ طاعون کا مریض کورونا وائرس کے مریضوں سے کئی گنا زیادہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے؛ لیکن اس کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ جمعہ وجماعت کو روک دیا گیا ہو، فقہاء جزئیات کو بیان کرتے وقت ایک ایک عذر کو بیان کرتے ہیں؛ لیکن اجتماعی طور پر ترک جماعت اور ترک جمعہ کے لئے بیماری کے عذر ہونے کا ذکر نہیں فرمایا،اور یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ جن اعذار کی بنیاد پر ترک جمعہ وترک جماعت کا حکم دیا گیا ہے، وہ جواز کے درجہ میں ہے، یعنی معذور شخص جمعہ وجماعت سے غیر حاضر رہ کر گھر پر جمعہ کے بدلہ ظہر اور جماعت کے بدلہ انفرادی طور پر نماز ادا کر سکتا ہے، یہ حکم وجوب کے درجہ میں نہیںہے، نماز باجماعت تو ایسا عمل ہے کہ میدان جنگ میں بھی اس کا حکم قائم رہتا ہے اور اس موقع کے لئے ایک مخصوص طریقہ کی نماز صلاۃ خوف رکھی گئی ہے، اسی طرح اس مسئلہ کو شدید بارش کے مسئلہ پر قیاس کرنا بھی درست نہیں ہے؛ کیوں کہ بارش ایک یقینی وواقعی عذر ہے اور کورونا وائرس سے نمازیوں سے متأثر ہونا شبہ کے درجہ میں ہے؛ اسی لئے اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہو چکا ہو تو اسے مسجد میں آنے سے روکا جا سکتا ہے؛ لیکن محض شبہ کی بناء پر جماعت موقوف کر دینے کے لئے یہ دلیل نہیں ہو سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ جب کوئی گھبرادینے والا واقعہ پیش آتا تو نماز کی طرف دوڑ پڑتے، اور صحابہ مسجد میں جمع ہو جاتے (بخاری، حدیث نمبر: ۱۰۵۹) نہ یہ کہ مصیبت میں اصحاب ایمان نماز اور مسجد سے بھاگنے لگیں۔
 غرض کہ انفرادی طور پر متأثرین کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ مسجد میں جماعت میں شریک نہ ہوں؛ لیکن اجتماعی طور پر مسجد میں جماعت جیسے اہم عمل کو موقوف کر دینا درست نظر نہیں آتا، ہمیں اس سلسلہ میں قرآن کی اس تنبیہ کو سامنے رکھنا چاہئے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا نام لینے کو روک دے، اور اس کو ویران کر دے: ومن أظلم ممن منع مساجد اللہ أن یذکر فیھا اسمہ وسعیٰ في خرابھا (البقرہ: ۱۱۴)
 بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ بیماری اور صحت کا اصل فیصلہ کائنات کے خالق ومالک کے دربار سے ہوتا ہے؛ اس لئے ہمیں اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہئے، اور زیادہ سے زیادہ دعاء کا اہتمام ہونا چاہئے، آج کل اس سلسلہ میں مختلف حضرات کی طرف سے خواب بھی بیان کئے جاتے ہیں، اور بعض خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے ذکر کئے جاتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ خواب بے حقیقت ہوتے ہیں؛ لیکن یہ ضرور ہے کہ انبیاء کے سوا کسی کا خواب حجت شرعی نہیںہے، اور ایسے مصائب میں کن آیات کی تلاوت کا اور دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہئے؟ اس کا ذکر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں موجود ہے، تو جس مسئلہ کا حل دلیل شرعی میں موجود ہو، اس میں ایسی چیز کی طرف توجہ دینا جو دلیل شرعی نہیں ہے، سمجھ میں نہیں آتا، مصیبتوں سے نجات کے لئے متعدد دعائیں منقول ہیں، ان میں سے چند مختصر دعائیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:
۱۱۔ استغفار کا اہتمام: ایسے مواقع پر زیادہ سے زیادہ استغفار کا اہتمام کرنا چاہئے؛ کیوں کہ وبائی بیماریاں بعض دفعہ گناہوں کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بناء پر بطور عذاب کے ہوتی ہیں، اور اس کا تدارک پورے اہتمام کے ساتھ استغفار یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگنا ہے؛ اس لئے ہر شخص کو چاہئے کہ خوب الحاح کے ساتھ اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ کے دربار میں ہاتھ پھیلائے، اور رب کریم سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگے، استغفار میں وہ تمام کلمات اور دعائیں شامل ہیں،جن میں گناہوں پر معافی مانگنے کا مضمون آیا ہو، جیسے ایک مختصر دعاء ہے، رب اغفرلی وارحمنی (اے میرے پروردگار! مجھے معاف کر دیجئے، اور مجھ پر مہربانی فرمائیے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۸۹۴)
۲۲۔ اللّھم إنی أسئلک العافیۃ في الدنیا والآخرۃ (اے اللہ! میں آپ سے دنیا وآخرت میں عافیت کا طلب گا ہوں)
۳۳۔ اللّھم إنی أسئلک العفو والعافیۃ في دیني ودنیای وأھلي ومالی (اے اللہ! میں آپ  سے اپنے دین ،دنیا ، اہل وعیال اور مال واسباب کے سلسلہ میں معافی وعافیت طلب کرتا ہوں)
۴۴۔ اللھم إنی أعوذ بک من البرص والجنون والجذام ومن سئیی الأسقام (اے اللہ! میں داغ کی بیماری، جنون، کوڑھ اور دوسری خراب تکلیف دہ بیماریوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۱۵۵۴)
۵۵۔ بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شئی في الأرض ولا في السماء وھو السمیع العلیم (اللہ کے نام سے، جس کے نام کی برکت سے نہ زمین کی کوئی چیز نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ آسمان کی، اور اللہ خوب سننے والے اور جاننے والے ہیں)---حدیث میں ہے کہ جو شخص صبح میں اسے پڑھے گا، رات تک مصیبت سے محفوظ رہے گا، اور جو شام میں پڑھے گا، وہ صبح تک محفوظ رہے گا۔
۶۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا کثرت سے ورد۔
۷۷۔ لا الٰہ إلا أنت سبحانک إنی کنت من الظالمین، کثرت سے پڑھنا ؛ کیوں کہ حضرت یونس علیہ السلام کو جب مچھلی نے نگل لیا تھا ، اس موقع پر آپ نے یہ دعاء پڑھی تھی۔
۸۸۔ صبح وشام آیت الکرسی کی تلاوت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے محفوظ رہنے کے لئے اس کی تلقین فرمائی ہے، اسے پڑھ کر بچوں میں دم کیا جائے۔
۹۹۔ صبح وشام سورۂ فاتحہ کی تلاوت؛ کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورۂ شفاء قرار دیا ہے۔
۱۰۰۔ صبح وشام سورۂ فلق وسورۂ ناس کی تلاوت کرنا اور ہاتھ پر دم کر کے پورے جسم پر دم کرنا اور بچوں پر بھی دم کرنا، اس کی بھی حدیث میں تلقین کی گئی ہے۔
جن دعاؤں کا ذکر آیا ہے، اگر ان کے الفاظ کو یاد کرنا دشوار ہو تو اپنی زبان میں اس کا مفہوم ادا کر دینا بھی کافی ہے۔
۱۱۱۔ ان اوراد واذکار کے ساتھ ساتھ کسی بھی ضرورت کے لئے ایک نفل نماز رکھی گئی ہے، جس کو نماز حاجت کہتے ہیں، حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے، اور اس پر ہمیشہ سے سلف صالحین کا عمل رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ مصائب سے نجات کا بہت ہی مجرب عمل ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اچھی طرح وضوء کریں اور جو ضرورت درپیش ہو، اس کو ذہن میں رکھ کر دو رکعت نماز پڑھیں، اور نماز سے فارغ ہونے بعد خوب اہتمام سے اس مقصد کے لئے دعاء کریں، اس کا اشارہ قرآن مجید میں بھی موجود ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے صبرونماز کو اللہ کی مدد حاصل ہونے کا ذریعہ بتایا ہے: یاایھا الذین آمنوا استعینوا بالصبر والصلاۃ----البتہ یہ انفرادی نماز ہے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو دوسری نمازوں کا ہے، اس کو جماعت کے ساتھ پڑھنا درست نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Ta'limul Quran Play – Interactive Quran Learning Games for Kids

🎮 Interactive Quran Learning Platform بچوں کو قرآن سکھانے کا نیا اور دلچسپ طریقہ 🌙 Ta'limul Quran Play قرآنِ مجید، عربی حروف، تجوید اور دینی تعلیم کو interactive activities، educational games، audio اور practice exercises کے ذریعے بچوں کے لیے زیادہ دلچسپ بنانے کی ایک کوشش۔ 🎮 Ta'limul Quran Play ابھی کھولیں 📸 Screenshots دیکھیں 📖 Ta'limul Quran Play کیا ہے؟ Ta'limul Quran Play ایک interactive Quran Learning Web App ہے جس کا مقصد بچوں کے لیے قرآن سیکھنے، عربی حروف کی پہچان، pronunciation practice اور revision کو زیادہ دلچسپ اور engaging بنانا ہے۔ اس platform میں learning کو صرف کتاب پڑھنے تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف activities، challenges، games، audio اور practice exercises کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 🌟 اصل مقصد بچے قرآن سے جڑیں، روزانہ کچھ وقت learning اور revision میں گزاریں، اور قرآن سیکھن...

بچوں کو قرآن سکھانے کا نیا اور آسان طریقہ — Ta'limul Quran Play

  بسم اللہ الرحمن الرحیم بچوں کو قرآنِ مجید، عربی حروف اور دینی تعلیم سکھانا ہر مسلمان والدین کی ایک اہم خواہش ہوتی ہے۔ لیکن آج کے دور میں بچوں کی توجہ حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ بچے موبائل، گیمز اور مختلف interactive سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، اس لیے اگر قرآن سیکھنے کے عمل کو بھی دلچسپ، آسان اور interactive بنایا جائے تو بچوں کے لیے سیکھنا زیادہ خوشگوار ہو سکتا ہے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے Ta'limul Quran Play ایک ایسا Quran Learning Platform بنانے کی کوشش ہے جس میں بچوں کو قرآن اور اسلامی تعلیمات سے جوڑنے کے لیے interactive learning اور educational games کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ Ta'limul Quran Play کیا ہے؟ Ta'limul Quran Play ایک Quran Learning Web App ہے جس کا مقصد بچوں کے لیے قرآن سیکھنے کے عمل کو زیادہ دلچسپ اور آسان بنانا ہے۔ اس میں قرآن سیکھنے کو صرف کتاب پڑھنے تک محدود رکھنے کے بجائے interactive activities اور learning games کے ذریعے بچوں کی دلچسپی بڑھانے کا تصور شامل کیا گیا ہے۔ والدین اور اساتذہ اس طرح کے interactive learning env...

Ta'limul Quran Play – Interactive Quran Learning App for Kids | Coming Soon

🚀 PRE-LAUNCH • 15 SEPTEMBER 2026 Ta'limul Quran Play 📖 Quran Learning • 🎮 Islamic Games • 🔤 Arabic Letters • 🕌 Tajweed • 🤖 AI Ustaadh ❤️ Bachchon ke liye Quran seekhna ab aur bhi interesting aur interactive banane ki koshish. Mobile ko sirf entertainment ka zariya nahi, balki Quran learning ka meaningful tool banane ka mission. ⏳ Planned Launch Countdown 15 September 2026 • 12:00 PM IST 00 Days 00 Hours 00 Minutes 00 Seconds 🌟 Features Dekhein 📱 App Screenshots 🌙 Quran Learning ka Naya Experience Har bachche ke haath mein mobile hai... Kyun na us mobile ko Quran seekhne, practice karne aur Islamic learning ke liye ek interesting digital zariya banaya jaye? Ta'limul Quran Play ek interactive Quran learning platform hai jiska aim bachchon ke liye Quran education ko practice, audio, games, challenges aur engaging activities ke ...

Ta'limul Quran Play – Interactive Quran Learning Games for Kids

🎮 INTERACTIVE QURAN LEARNING FOR CHILDREN A New & Exciting Way to Learn Quran 🌙 Ta'limul Quran Play Explore an interactive Quran learning experience designed to help children practice Arabic letters, Quran reading, pronunciation, Tajweed concepts, revision and educational learning activities in a more engaging way. 🎮 Open Ta'limul Quran Play 📸 Explore Screenshots 📖 Ta'limul Quran Play — Interactive Quran Learning Ta'limul Quran Play is an interactive Quran learning project created to make Quran education more engaging for children. It combines learning concepts such as Arabic letters, Quran reading practice, pronunciation, Tajweed-related learning, revision and educational games. The idea is simple: children should not only read what they are learning, but also listen, recognize, practice, answer and revise through intera...

How to Teach the Quran to Children in the Digital Age — 25 Fun & Interactive Ways

QURAN LEARNING • CHILDREN • PARENTS How to Teach the Quran to Children in the Digital Age — 25 Fun & Interactive Ways Discover 25 fun, meaningful and practical ways to help children learn Arabic, Quran reading, Tajweed, Duas and Islamic knowledge through engaging activities, technology and consistent practice. Facebook X WhatsApp 🌙 Why Should Quran Learning Be More Engaging? Children naturally enjoy stories, challenges, games, sounds, pictures, repetition and exploration. Modern technology can provide additional ways to make Quran education engaging while keeping the Quran itself at the heart of learning. The goal is not simply to keep children using an app for longer. The real goal is to help children learn, practice regularly and develop a sincere and lasting relationship with the Quran. Important: Technology should be a learning tool. It should support Quran education, parents and qualified teachers rather than replace them. ...