Skip to main content

مدینہ کے یہود اور ان سے معاہدہ

                      سیرت النبی 

                 
                               ﷽  


       💎 مدینہ کے یہود اور ان سے معاہدہ 💎

      مورخین عرب کا بیان ہے کہ مدینہ کے یہود نسلاً یہودی تھے اور اس تقریب سے عرب میں آئے تھے کہ حضرت موسی نے ان کو عمالقہ کے مقابلہ کیلئے بھیجا تھا لیکن تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ یہود گو تمام دنیا میں پھیلے لیکن انہوں نے اپنے نام کہیں نہیں بدلے، آج بھی وہ جہاں ہیں اسرائیلی نام رکھتے ہیں ۔ بخلاف اس کے عرب کے یہودیوں کے نام نضیر، قینقاع، مرحب، حارث وغیرہ ہوتے تھے جو خالص عربی نام ہیں، یہود عموما بزدل اور دنی الطبع ہوتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت موسی نے ان سے لڑنے کے لئے کہا تو بولے:

    [ فَاذھب انتَ وَرَبكَ فَقاتلا انا ههنَا قعدون (5/ المائدة: ۲4)

        تم مع اپنے خدا کے جاؤ اور لڑو۔ ہم یہاں بیٹھے رہیں گے ۔

      بخلاف اس کے مدینہ کے یہود نہایت دلیر، شجاع اور بہادر تھے۔ ان قران عقلی کے علاوہ ایک بڑے مؤرخ (یعقوبی) نے صاف تصریح کی ہے کہ قریظہ اور نضیر عرب تھے جو یہودی بن گئے تھے۔

   ( ثم كانت وقعة بني النضير، وهم فخذ من جذام الا انهم تهودوا وكذلك قريظة )

   "  پھر بنو نضیر کا معرکہ ہوا۔ قبیلہ جذام کا ایک خاندان تھا لیکن یہودی ہو گیا تھا اور اسی طرح قریظہ بھی "

      مؤرخ مسعودی نے بھی "کتاب الاشراف والتنبيه" * میں ایک روایت لکھی ہے کہ یہ جذام کے قبیلہ سے تھے کسی زمانہ میں عمالقہ سے اور ان کی بت پرستی سے بیزار ہو کر حضرت موسی) پر ایمان لائے اور شام سے نقل مکان کر کے حجاز چلے آئے ۔

       یہ تین قبیلے تھے، بنوقينقاع، بنو نضیر اور قریظہ ، مدینہ کے اطراف میں آباد تھے اور مضبوط برج اور قلعے بنا لئے تھے۔

       انصار کے جو دو قبیلے تھے، یعنی اوس اور خزرج، ان میں باہم جو اخیر معرکہ ہوا تھا، (جنگ بعاث) اس نے انصار کا زور بالکل توڑ دیا تھا۔ یہود اس مقصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے کہ انصار باہم کبھی متحد نہ ہونے پائیں۔

    ان اسباب کی بنا پر جب انحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو پہلا کام یہ تھا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے تعلقات واضح اور منضبط ہو جائیں، آپ ﷺ نے انصار اور یہود کو بلا کر حسب ذیل شرائط پر ایک معاہدہ لکھوایا جس کو فریقین نے منظور کیا ، یہ معاہدہ ابن ہشام میں پورا مذکور ہے، خلاصہ یہ ہے

❶ خون بہا اور فدیہ کا جو طریقہ پہلے سے چلا آتا تھا اب بھی قائم رہے گا۔
❷ یہود کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور ان کے مذہبی امور سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔
❸ یہود اور مسلمان باہم دوستانہ برتاؤ رکھیں گے۔
❹ یہود یا مسلمانوں کو کسی سے لڑائی پیش آئے گی تو ایک فریق دوسرے کی مدد کرے گا۔
❺ کوئی فریق قریش کو امان نہ دے گا۔
❻ مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو دونوں فریق شریک یک دگر ہوں گے۔
❼ کسی دشمن سے اگر ایک فریق صلح کرے گا تو دوسرا بھی شریک صلح ہوگا لیکن مذہبی لڑائی اس سے مستثنی
ہوگی۔




                 💎 واقعات متفرقہ 💎


    اس سال انصار میں سے دو نہایت معزز شخصوں نے جو مقربین خاص میں تھے ، وفات پائی، حضرت کلثوم
بن ہدم اور اسعد بن زرارہ، کلثوم وہ شخص ہیں کہ رسول الله ﷺ جب قباء میں تشریف لائے تو انہی کے مکان میں ٹھہرے، اکثر بڑے بڑے صحابہ بھی انہی کے گھر اترے تھے۔ حضرت اسعد بن زرارہ ان شخصوں میں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مکہ میں جا کر انحضرت ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ ابن سعد کی روایت کے موافق ان چھ شخصوں میں جس نے سب سے پہلے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا یہی اسعد تھے، یہ فخر بھی انہی کو حاصل ہے کہ سب سے پہلے انہی نے مدینہ میں آکر جمعہ کی نماز قائم کی ۔ 

     چونکہ یہ قبیلہ بنی نجار کے نقیب تھے، اس لئے ان کی وفات کے بعد اس قبیلہ نے انحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے بجائے کوئی شخص اس منصب پر مقرر کیا جائے ، چونکہ یہ احتمال تھا کہ کوئی شخص مقرر ہوگا تو اوروں کو شک ہو گا، اس لئے انحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں خود تمہارا نقیب ہوں ۔‘‘ چونکہ آپ ﷺ کی ننہال اسی قبیلہ میں تھی ، اس لئے اور قبائل کو رشک اور متنافست کا موقع نہ ملا۔

    حضرت اسعد کی وفات کا آنحضرت ﷺ کو نہایت صدمہ ہوا۔ منافقین اور یہود نے یہ طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد   ﷺ اگر پیمبر ہوتے تو ان کو یہ صدمہ کیوں پہنچا‘‘ آپ ﷺ نے سنا تو فرمایا:

   ((لا املك لنفسي ولا لصاحبي من الله شيئا))

   "میں اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے خدا کے ہاں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘

    یہ عجیب اتفاق ہے کہ عین اسی زمانہ میں دو بڑے رئیسان کفر نے بھی وفات پائی ،یعنی ولید بن مغیرہ جو حضرت خالد کا باپ تھا اور عاص بن وائل جن کے بیٹے عمرو بن عاص ہیں ۔ جو فاتح  مصر اور امیر معاویہ کے وزیر اعظم تھے۔

     اسی زمانہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کی ولادت ہوئی، ان کے والد حضرت زبیر آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور ان کی والدہ اسماء ) حضرت ابو بکر کی صاحبزادی اور حضرت عائشہ کی بے مات بہن تھیں۔ اب تک مہاجرین میں سے کسی کے اولاد نہیں ہوئی تھی اس لئے یہ مشہور ہوگیا تھا کہ یہودیوں نے جادو کر دیا ہے۔ عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے تو مہاجرین نے خوشی کا نعرہ مارا۔

     اب تک نمازوں میں صرف دو رکعتیں تھیں ۔ اب ظہر و عصر و عشاء میں چار چار ہو گئیں لیکن سفر کے لئے اب بھی وہی دو رکعتیں قائم رہیں۔

≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠

❶سیرت النبی علامہ نعمان شبلی جلد  
      

                  🌹  ͜͡ ۝͜͡  🌹

Comments

Popular posts from this blog

سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا

سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا 💕خاندانی پس منظر اور اسلام۔۔ ان کا نام حواء تھا ، والد کا نام یزید بن سکن اور والدہ کا نام عقرب بنت معاذ تھا ان کے ماموں قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ البتہ ان کا خاوند قیس بن خطیم زمانہ جاہلیت کے ان گمراہ نوعیت شاعروں میں سے ایک تھا جن کے بارے قرآن کریم میں یہ ارشاد ہے : (سورہ الشعراء   🌷وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕ  شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں ۔ 🌷اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙ  کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں ۔ قیس نے اپنی عمر کو فضول کاموں میں گزارا ۔ اس نے اپنی زندگی کھیل کود اور دیوانگی میں گزاری اس نے ہمیشہ گمراہی کو ہدایت پر تر جیح دی اور بے راہ روی کو رشد و ہدایت سے بہتر جانا اور وہ پر...

قریش کی مخالفت اور اس کے اسباب

                                                                        سیرت النبی ﷺ                                                                         ﷽                                                    🔴قریش کی مخالفت اور اس کے اسباب🔴     مکہ کی جو عزت تھی کعبہ کی وجہ سے تھی ۔ قریش کا خاندان جو تمام عرب پر مذہی حکومت رکھتا تھا اور جس کی وجہ سے وہ ہمسائیگان خدا بلکہ آل اللہ یعنی خاندان الہی کہلاتے تھے۔ اس کی صرف یہ وجہ تھی کہ وہ کعبہ کے مجاور او...

حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ

 حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ  بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه  *صحابہ کرام رضی اللہ عنہم* حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ *اے ابو یحیی ! سودا نفع بخش رہا* *(فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم)* ہم میں سے کون ہے جو حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کو نہ جانتا ہو ! اور ان کی سیرت کے اہم ترین واقعات جاننے میں دلچسپی نہ رکهتا ہو، لیکن ہم میں سے اکثر و بیشتر یہ بات نہیں جانتے کہ آپ رومی نہیں تهے بلکہ خالص عربی النسل تهے، باپ کی جانب سے نمیری اور ماں کی جانب سے تمیمی تهے. یعنی ان کے والد قبیلہ بنو نمیر اور والدہ قبیلہ بنو تمیم سے تهی، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کا روم کی طرف انتساب ایک عجیب و غریب واقعہ ہے جو کہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہے گا اور تاریخ دان اسے نہایت دلچسپی سے بیان کرتے رہیں گے. بعثت نبوی سے دو سال پہلے کی بات ہے بصرہ سے ملحقہ قدیمی شہر ابلہ کا گورنر سنان بن مالک نمیری تها. اس کی تقرری شاہ ایران کے ایما پر کی گئی تهی، اسے اپنی اولاد میں سب سے زیادہ پیار اپنے پانچ سالہ بچے صہیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تها...