Skip to main content

عرب مستعربہ


                  💫تاریخ اسلام💫

             




                           ﷽  



                    🔴عرب مستعربہ🔴



          اس طبقہ سے مراد *بنو عدنان* یا *اولاد اسماعیلؑ* ہیں۔ یہ لوگ ملک عرب میں باہر سے آباد ہوئے۔ اس لیے ان کو *عرب مستعربہ* یا *مخلوط عرب* کا خطاب دیا گیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی مادری زبان عجمی یا فارسی زبان تھی۔ حضرت *اسماعیل* علیہ السلام کو حضرت *ابراہیمؑ* مع ان کی والدہ *ہاجرہ* کے جب مکہ مکرمه (ملک حجاز ) میں چھوڑ گئے تو انہوں نے *قحطان* قبیلہ *جرہم* سے جو *مکہ مکرمہ* میں آباد ہو گئے تھے عربی زبان سیکھی اور آئندہ یہی عربی زبان *آل اسماعیل* کی زبان ہوئی ۔ حضرت *اسماعیل* کی عمر *پندرہ* سال کی تھی کہ ان کی والدہ حضرت *ہاجرہ* کا انتقال ہوگیا۔ والدہ کے فوت ہونے کے بعد حضرت *اسماعیل* نے ارادہ کیا کہ *مکہ* سے ملک *شام* کی طرف کے دوسرے مقام پر چلے جائیں مگر قبیلہ *جرہم* نے آپس میں مشورہ کر کے ان کو اس ارادہ سے باز رکھا اور ان کا نکاح *عمارہ بنت سعید بن اسامہ بن اکیل* سے خاندان *عمالقہ* میں کردیا۔ چند روز کے بعد حضرت *ابراہیم* اس طرف تشریف لائے اور ان کی اشارہ کے موافق حضرت *اسماعیل* نے اس بیوی کو طلاق دے کر قبیلہ *جرہم* میں *سیدہ بنت مضاض بن عمرو* سے نکاح کر لیا۔ ان واقعات کے بعد پھر ارشاد الہی کے موافق حضرت *ابراھیم* اور حضرت *اسماعیل* نے حضرت *آدم* کے زمانے کے بنیادوں پر *خانہ کعبہ* کی تعمیر کا کام شروع کیا، کہ حضرت ابراہیم تو جڑائی کا کام کرتے تھے اور حضرت اسماعیل غارہ اور پتھر اٹھا اٹھا کر دیتے تھے، اور دونوں بزرگ یہ دعا کرتے تھے-  #ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العلیم،  جب دیوار کسی قدر بلند ہوئی اور تعمیر کے کام میں دقت ہوئی تو حضرت ابراہیم ایک پتھر پر کھڑے ہو کر کام کرنے لگے۔ یہ وہی مقام ہے جس کو مقام ابراہیم  کہتے ہیں ۔ خانہ کعبہ جب قریب تیاری کے پہنچا تو حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل سے کہا کہ کسی اچھے پتھر کا ٹکڑا لاؤ تاکہ *مقام رکن* پر رکھ دوں، جس سے لوگوں کو امتیاز باقی رہے۔ چنانچہ حضرت اسماعیل حضرت *جبرائیل* کی رہبری میں *جبل بوقبیس* سے *حجر اسود* کو اٹھا لائے، اور حضرت ابراہیم کے اس کو مقام رکن پر رکھ دیا۔ *حجر اسود* یہی ہے جس کا طواف کے وقت *بوسہ* لیا جاتا ہے۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ان لوگوں کو جو آپ پر ایمان لا چکے تھے ہمراہ لے کر مقامات *منی و عرفات* کی طرف گئے- قربانی کی اور خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ بعد ازاں حضرت ابراہیم *ملک شام* کی طرف چلے گئے اور تاحیات ہر سال خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کو اتے رہے۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم کو بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔


        حضرت اسماعیل نے آخر تک مکہ مکرمہ ہی میں سکونت رکھی ۔ *قبیلہ بنی جرہم* (ان کو جرہم ثانی کہتے ہیں) *مکہ مکرمہ* میں اور *قبیلہ عمالقه* *اطراف مکہ* میں سکونت پذیر تھا (یہ وہ *عمالقہ* نہیں ہیں جو *عرب بائدہ* میں شامل ہیں، انہیں قبیلوں کے کچھ لوگ حضرت اسماعیل پر ایمان لائے تھے۔ کچھ بدستور اپنے کفر و الحاد پر قائم رہے۔ حضرت *اسماعیل* کی #وفات بروایت توریت.............. *ایک سو سینتیس* سال کی عمر میں ہوئی۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے *بارہ بیٹے* موجود تھے جن کی #نسل اس قدر ترقی کی کہ *مکہ* میں نہ سما سکے اور تمام ملک *حجاز* میں پھیل گئے ۔ کعبہ کی تولیت اور مکہ مکرمہ کی سیادت *بنی اسماعیل* سے مسلسل متعلق رہی۔ حضرت اسماعیل کی #نسل میں ان کے بیٹے *قیدار* کی اولاد میں ایک شخص *عدنان* ہوئے ۔ #عدنان کی اولاد *بنی اسماعیل* کے تمام مشہور قبائل پر مشتمل ہے، اور اسی لیے #عرب_مستعربہ_بنی_اسرائیل کو *عدنانی* یا *آل عدنان* کہا جاتا ہے۔ #عدنان کے بیٹے کا نام *معد* اور #پوتے کا نام *نزار* تھا۔ #نزار کے چار بیٹے تھے جن سے تمام *عدنانی قبائل* متفرع ہوۓ اسی لیے #عدنانی_قبائل کو *نسبی* اور *نزاری* بھی کہتے ہیں، بعض *عدنانی قبائل* کے *نسبی تعلقات* کا حال #شجرہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔



                                 🔴عدنانی قبائل🔴

     عدنانی قبائل میں اباد؛ *ربیعہ* اور *مضر* بہت مشہور ہوئے ۔ ان میں بھی *ربیعہ* اور *مضر* زیاده نامور ہیں ۔ شرف اور عزت میں یہ دونوں ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔ قبائل *مضر* کے مشہور قبیلہ *کنانہ* میں *فهر بن مالک* تھے جن کو *قریش* بھی کہتے تھے۔ قریش کی اولاد میں بہت سے قبائل ہوئے جن میں
بنی سہم
بنی مخزوم
بنی حمح
بنی تمیم
بنی عدی
بنی عبدالدار
بنی زہرہ
بنی عبد مناف
      زیادہ مشہور ہوئے ۔ *عبد مناف* کے چار بیٹے تھے۔
عبد شمس
نوفل
مطلب
ہاشم
     کی اولاد میں آنحضرت محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ہوئے، جن کی امت تمام مسلمان ہیں اور جو نبی آخر الزماں ہیں ۔ انہیں کی امت کے حالات اس چینل میں بیان کرنا مقصود ہیں ۔ *عبد شمس* کے بیٹے *امیہ* تھے جن کی اولاد *بنی امیہ* کہلائی جاتی ہے۔ *عدنانی قبائل* جس زمانہ میں *خزاعہ* سے مغلوب ہو کر اور مکہ چھوڑ کر نکلے تو مختلف مقامات میں پھیل گئے ۔
بنی بکر *بحرین* میں
بنی حنیفہ *یمامہ* میں
بنی تغلب *سواحل فرات* پر
بنی تمیم *الجزیرہ* میں
بنی سلیم *مدینہ کے نواح* میں
بنی ثقيف *طائف* میں
بنی آذر *کوفہ کے مغرب* میں
بنی کنانہ نے *تہامہ* میں
      جا کر بود و باش اختیار کر لی ۔ *مکہ* اور اس کے *نواح* *عدنانیوں* میں سے صرف قبائل *قریش* رہ گئے لیکن ان کے آپس میں بھی کوئی اتفاق اور نظم نہ تھا سب متفرق تھے *قصی بن کلاب* نے سب کو متفق متحد کیا *قصی بن كلاب* نے (جو پانچویں صدی عیسوی میں تھے ) قبائل قریش میں اتفاق پیدا کر کے نہ صرف *مکہ مکرمہ* بلکہ تمام *ملک حجاز* پر اقتدار حاصل کر لیا ۔ خانہ کعبہ کی *تولیت* اب پھر آل عدنان میں آگئی ۔ قصی نے خانہ کعبہ کی مرمت کی اور اپنے لئے محل بنوایا، جس کا ایک بڑا کمرہ لوگوں کے جمع ہو کر مشورہ کرنے کے کام آتا تھا، اس کا نام *دار الندوہ* رکھا گیا تھا۔ دارالندوہ میں بیٹھ کر قصی کاروبار حکومت انجام دیتے اور قریش کے سردار مشورے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ قصی نے یہ بھی تجویز کیا کہ حج کے موقع پر تین دن تک حاجیوں کو کھانا کھلایا جائے اور تمام قریش اس کے اخراجات کے لیے آپس میں چندہ سے رقم جمع کریں ۔ غرض یہ کہ قصی کو مکہ اور حجاز میں دینی اور دنیوی دونوں قسم کا اقتدار حاصل تھا۔ ۲۸۰ء میں قصی *راہی ملک* بقا ہوئے اور ان کا بیٹا *عبدالدار* اپنے باپ کی جگہ مکہ کا حاکم تسلیم کیا گیا۔ عبدالدار کی وفات کے بعد اس کے *پوتوں* اور اس کے بھائی *عبد مناف* کے بیٹوں میں حکومت کے لیے فساد برپا ہوا، لیکن مکہ کے با اثر لوگوں نے بیچ میں پڑ کر فیصلہ کیا کہ *عبد مناف* کے بیٹے *عبد شمس* کو آب رسانی، چندہ یا ٹیکس کی وصولی اور حاجیوں کی میزبانی کا کام سپرد ہو۔ عبدالدار کے پوتوں کو فوجی انتظام کعبہ کی حفاظت اور دارالندوہ کی نگرانی کا کام سپرد کیا جائے ۔ چند روز کے بعد *عبد مناف* کے بیٹے *عبد شمس* نے اپنے چھوٹے بھائی *ہاشم* کو اپنی حکومت اور تمام حقوق دے دیئے۔ ہاشم اپنی تجارت دولت اور سخاوت کی وجہ سے اہل مکہ میں بہت ہر دل عزیز تھے ۔ انہوں نے قریش کو تجارت کی ترغیب دینے اور تجارت کے ذرائع پیدا کر دینے سے بہت فائدہ پہنچایا۔

≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠




         ❶تاریخ اسلام جلد  

      


                🌹  ͜͡ ۝͜͡  🌹

Comments

Popular posts from this blog

سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا

سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه سَیِّدَہْ حَوَّاء بِنْتِ یَزِیْد اَلْأَنْصَارِیَہْ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا 💕خاندانی پس منظر اور اسلام۔۔ ان کا نام حواء تھا ، والد کا نام یزید بن سکن اور والدہ کا نام عقرب بنت معاذ تھا ان کے ماموں قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ البتہ ان کا خاوند قیس بن خطیم زمانہ جاہلیت کے ان گمراہ نوعیت شاعروں میں سے ایک تھا جن کے بارے قرآن کریم میں یہ ارشاد ہے : (سورہ الشعراء   🌷وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕ  شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں ۔ 🌷اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙ  کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں ۔ قیس نے اپنی عمر کو فضول کاموں میں گزارا ۔ اس نے اپنی زندگی کھیل کود اور دیوانگی میں گزاری اس نے ہمیشہ گمراہی کو ہدایت پر تر جیح دی اور بے راہ روی کو رشد و ہدایت سے بہتر جانا اور وہ پر...

قریش کی مخالفت اور اس کے اسباب

                                                                        سیرت النبی ﷺ                                                                         ﷽                                                    🔴قریش کی مخالفت اور اس کے اسباب🔴     مکہ کی جو عزت تھی کعبہ کی وجہ سے تھی ۔ قریش کا خاندان جو تمام عرب پر مذہی حکومت رکھتا تھا اور جس کی وجہ سے وہ ہمسائیگان خدا بلکہ آل اللہ یعنی خاندان الہی کہلاتے تھے۔ اس کی صرف یہ وجہ تھی کہ وہ کعبہ کے مجاور او...

حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ

 حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ  بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ✨باذن اللہ تعالی✨ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه  *صحابہ کرام رضی اللہ عنہم* حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ *اے ابو یحیی ! سودا نفع بخش رہا* *(فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم)* ہم میں سے کون ہے جو حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کو نہ جانتا ہو ! اور ان کی سیرت کے اہم ترین واقعات جاننے میں دلچسپی نہ رکهتا ہو، لیکن ہم میں سے اکثر و بیشتر یہ بات نہیں جانتے کہ آپ رومی نہیں تهے بلکہ خالص عربی النسل تهے، باپ کی جانب سے نمیری اور ماں کی جانب سے تمیمی تهے. یعنی ان کے والد قبیلہ بنو نمیر اور والدہ قبیلہ بنو تمیم سے تهی، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کا روم کی طرف انتساب ایک عجیب و غریب واقعہ ہے جو کہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہے گا اور تاریخ دان اسے نہایت دلچسپی سے بیان کرتے رہیں گے. بعثت نبوی سے دو سال پہلے کی بات ہے بصرہ سے ملحقہ قدیمی شہر ابلہ کا گورنر سنان بن مالک نمیری تها. اس کی تقرری شاہ ایران کے ایما پر کی گئی تهی، اسے اپنی اولاد میں سب سے زیادہ پیار اپنے پانچ سالہ بچے صہیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تها...